130

انتہا پسندی یا مندر کی تعمیر زیادہ خطرناک کیا ہے؟

انتہا پسندی یا مندر کی تعمیر زیادہ خطرناک کیا ہے؟

پاکستانیوں نے آج سے کئی دہائیاں پہلے جب برطانیہ یورپ کے دیگر ممالک امریکا کینیڈا نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے کئی اور غیر مسلم ممالک کا رجوع کیا تو وہاں پہ انہیں ان کی عبادت گاہیں (مساجد)بنانے کی اجازت دی گئی اور آج ان تمام غیر مسلم ممالک کے بڑے شہروں میں تقریبا ہر مکتبہ فکر کی مسجد موجود ہے نہ صرف یہ بلکہ کہ عبادت گاہوں کو ان ممالک میں ٹیکس کی خاص سہولیات میسر ہوتی ہیں اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ اگر کسی غیر مسلم ملک میں جاکے اپنی مسجد تعمیر کر سکتے ہیں تو آپ کے مسلم ملک میں کوئی ہندو اپنی عبادت گاہ کیوں نہیں بنا سکتا؟ اگر غیر مسلموں کو اللہ کے نبی اور خلفائے راشدین کے ادوار میں ان کی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت دی جاتی تھی تو پھر آج مملکت خداداد پاکستان میں ہندوؤں کی عبادت گاہ بنانے پر پابندی کیوں لگائی جارہی ہے؟ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اسلام آباد میں ایک مندر بننے سے کیا اسلام خطرے میں پڑ جائے گا یا اسلام آباد؟ ریاست کے لئے سب مذاہب اور مکاتب فکر کے ماننے والے اس کی اولاد جیسے ہوتے ہیں اور ریاست کا فرض بنتا ہے کہ ریاست ان کے تحفظ میں کوئی کسر نہ چھوڑے ضیاء الحق کے دور کے بعد سے شروع ہونے والی دہشت گردی اور انتہا پسندی جو ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا جہاں یہ ریاست کا اولین فرض ہے کہ تمام مذاہب اور مکتبہ فکر کے لوگوں کو تحفظ دے وہی میرا اور آپ کا بھی یہ فرض ہے کہ ہم سب مذاہب اور سب مکاتب فکر کا احترام کریں تبھی یہ معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکے گا اگر تقسیم ہند و پاک سے پہلے سکھ عیسائی ہندو اور مسلمان اکٹھے رہ سکتے ہیں تو آج کے اس دور میں کیوں نہیں؟ آئے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نفرت اور چھوٹی سوچ کو ختم کریں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق دوسری قومیتوں اور مذاہب کے ساتھ زندگی گزاریں یقینا ہماری فلاح اسی میں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں