140

کالا باغ ڈیم سے پاکستان کی خشک سالی،لوڈشیڈنگ اور غربت ختم ہو سکتی ہے۔ کالا باغ ڈیم بناؤ اندھیرے مٹاؤ

تحریر: ملک مدثر اقبال کروڑ

کالا باغ ڈیم . .
کالا باغ میانوالی سے 20 کلومیٹر دور واقع ایک قصبہ ہے۔جہاں 1947 سے پہلے کیلے کے بہت باغ ہوا تھے جو دور سے سیاہ بادل نظر آتے تھے۔اس کی وجہ سے اس جگہ کا نام کالا باغ پڑ گیا تھا اور اس کی دوسری مشور وجہ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ ملک امیر محمّد خان تھے۔ 1953 میں یہ جگہ ڈیم کے لیے شاندار قرار دی گی۔کالا باغ ڈیم پر آج تک 1 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ کالا باغ ڈیم پر تقریباً 8 ارب کی لاگت ہے۔یہ ڈیم کم سے کم 3 سال میں یا زیادہ سے زیادہ 5 سال میں اپنی مدت پوری کر کے بن سکتا ہے۔ کالا باغ ڈیم کی وجہ سے 83 ہزار لوگ بے گھر ہونگے۔ کالا باغ ڈیم کی اونچائی 915 فٹ ہوگی۔1960 میں صدر ایوب خان نے سندھ طاس معاہدہ کیا۔جو کے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا۔جناب ایوب خان نے راوی،ستلج اور بیاس کا پانی 8 کروڑ میں بیچ دیا۔اس معاہدے کے تحت پاکستان کو کالا باغ ڈیم بنانے کی اجازت مل گی۔بد قسمتی سے کام شروع ہونے سے پہلے ہی صدر جنرل ایوب خان کی حکومت ختم ہوگی۔ یحییٰ خان کے دور میں پاکستان مشکل کا شکار ہوگیا،ذولفقار علی بھٹو آے تو پاکستان میں داخلی سیاست آ گئی اور اس کے بعد جنرل ضیاءالحق آے تو افغان وار شروع ہوگی.وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اس ڈیم کے لیے اپنی کوشش جاری رکھی۔لیکن سندھ کے وڈیروں نے اس کی بھر پور مخالفت کی۔ ان کے بعد وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے 1989 میں کام کرنا شروع لیکن مدت ختم ہونے پر یہ کام ایک دفعہ پھر روک گیا۔پھر نواز شریف صاحب میدان میں آے 1991 میں کام شروع کرنا چاہا۔انہوں نے چاروں صوبوں کے وزیراعلی سے مشاورت کی۔لیکن ان کےدور میں گرین سگنل ملنے کے باوجود یہ نا بن سکا۔ 2007 میں صدر پرویز مشرف وكلا گردی کا شکار ہوے۔ مزید یہ کہ 1947سے 2020تک بہت ساری حکومتیں آئی لیکن کوئی بھی کالا باغ ڈیم بنانے میں کامیاب نا ہو سکی۔
کالا باغ ڈیم سے پاکستان کا 50 لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہو سکتا ہے۔ 70 لاکھ ایکڑ معکب فٹ پانی جمع کر سکتے ہیں۔ سالانہ 30 ارب روپے کی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔4000 میگاواٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔جس کی قیمت 2.5 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ بجلی سستی ہونے سے اشیاء کی لاگت کم ہو جاۓ گئی۔ برآمدات بڑھ جاۓ گئی اور درامدات میں کمی آئے گئی۔بیرونی قرضہ جات آسانی سے چکا سکتے ہیں۔ بند فیکٹری دوبارا کھل جاۓ گئی۔ سالانہ 1.6 ارب کی سستی بجلی پیدا ہو گئی۔ موسمی حالات میں بہتری آے گئی۔ اور اردگرد کا درجہ حرارت کم ہو جاے گا اور بارش زیادہ ہونگی۔ کالا باغ ڈیم بنانے سے 60 ہزار لوگوں کو نوکریاں ملے گئی۔سندھ کو 40 لاکھ ایکڑ فٹ پانی،پنجاب کو 22 لاکھ ایکڑ فٹ،کے پی کے کو 20 لاکھ فٹ جبکہ بلوچستان کو 15 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ملے گا۔ یہ پانی اضافی پانی ہو گا۔ اس کے علاوہ آمدن میں 15 فیصد اضافہ ہو گا اور جی ڈی پی میں 250ارب شامل ہو گا۔
کالا باغ ڈیم نا بنانے سے بجلی کی پیداوار میں کمی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گا۔سالانہ 380 ارب روپے کا نقصان، زراعت کو سالانہ 10 ارب روپے کا نقصان ہو گا۔270 معکب فٹ پانی سالانہ ضائع ہو گا۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کالا باغ ڈیم بننے سے آپ کو کیا ملے گا یہ مت سوچے بلکہ پاکستان کو کیا ملے گا یہ سوچے۔کالا باغ ڈیم سے پاکستان کی خشک سالی،لوڈشیڈنگ اور غربت ختم ہو سکتی ہے۔
کالا باغ ڈیم بناؤ اندھیرے مٹاؤ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں