186

شاہ رخ جتوئی نے سزا سننے کے بعد عدالت کے باہر وکٹری کا نشان بنایا تھا

07 جون 2013
شاہ رخ جتوئی کو سزا موت سنائی گئی تھی لیکن پھر پاکستان کا نظام خصی ہوگیا۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 07 جون 2013 شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج علی تالپور کو سزائے موت اور دیگر ملزمان بشمول گھریلو ملازم غلام مرتضٰی لاشاری اور سجاد علی تالپور کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور شاہ جتوئی نے سزا سننے کے بعد عدالت کے باہر وکٹری کا نشان بنایا تھا۔

شاہ رخ جتوئی کی دیکھائی جانے والی یہ دو انگلیاں میں ساری زندگی یاد رکھوں گا اور پاکستان پیپلزپارٹی کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی نثار کھوڑو کی یہ چمی بھی یاد رہے گی۔

آج کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے کسی لیڈر کسی رکن قومی و صوبائی اسمبلی کے گھر کی خواتین کا احترام نہیں کیا جائے گا ۔

ہماری بہنوں کو چھیڑنے والے اور ہمارے بھائیوں کو سرعام قتل کرنے والے کو سرعام چومنے والے یہ سیاست دان ۔یہ سب میں مرتے دم تک یاد رکھوں گا ۔

شاہ زیب 13 جنوری 1992 کو پیدا ہونے والا کراچی کا رہائشی نوجوان تھا۔ اس کے والد پولیس میں ڈی ایس پی تھے۔ شاہ زیب نے جب اپنی بہن کو نازیبا فقرے کہنے والے غنڈوں کو منع کیا تو انہوں نے گولی چلا کر 25 دسمبر 2012ء کو کراچی ڈیفنس کے علاقہ میں شاہ زیب کو قتل کر دیا۔ غنڈوں میں سندھ کے وڈیرہجتوئی خاندان کا بیٹا شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور اور دو دوسرے تھے۔ جتوئی دبئی فرار ہو گیا۔

یہ 24 دسمبر 2012 کی رات تھی جب شاہ زیب اپنی فیملی کے ساتھ اپنی بہن کا ولیمہ اٹینڈ کرکے گھر آرہا تھا کہ سندھ کے تالپور گھرانے کے چشم و چراغ سراج تالپور نے ان میں سے ایک لڑکی کو چھیڑنا شروع کیا۔ لڑکی کے بھائی، شاہزیب خان نے اسے منع کیا، جھگڑا ہوا اور تالپور کو وہاں سے جانا پڑا۔

لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی ۔

سراج تالپور اپنے دوست، سندھ کے جتوئی خاندان کے چشم و چراغ شاہ رخ جتوئی اور دو مزید دوستوں کے لے کر ان کے گھر آیا، پھر سب کی آنکھوں کے سامنے 25 دسمبر 2012 کو شاہزیب خان کو شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے سیدھے فائر کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہوگئے۔

طالب علم شاہ زیب کے قتل پر سوشل میڈیا پر تحریک چلی جسے دیکھتے ہوئے عدالت عظمی کے چیف جسٹس نے مداخلت کی اور ملزموں کی گرفتاری کا حکم دیا۔ چنانچہ حکومت پاکستان نے دبئی کے شیخوں کو کہا کہ بندہ حوالے کرو۔ شاہ رخ کو پاکستان واپس لایا گیا، اور جیل میں ڈالا گیا۔

شاہزیب کا والد ڈی ایس پی تھا، مقدمہ چلا، ملزمان کو گرفتار کیا گیا، گواہ وغیرہ سب موقع پر موجود تھے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 07 جون 2013 اس مقدمہ قتل کے مبینہ مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج علی تالپور کو سزائے موت اور دیگر ملزمان بشمول گھریلو ملازم غلام مرتضٰی لاشاری اور سجاد علی تالپور کو عمر قید کی سزا سنائی

معاملہ جتوئی اور تالپور گھرانوں کا تھا، ایسے ختم ہوجاتا تو پھر ہمارے ملک کو پاکستان کون کہتا؟ چنانچہ مقتول کی فیملی پر دباؤ ڈالنا شروع کیا گیا۔ انہیں دھمکیاں ملیں کہ اگر ہمارے بیٹے نہ رہے تو تمہاری بیٹیوں کو ایک ایک کرکے سربازار ننگا کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔

ستمبر 2013ء میں سبھاگو خان جتوئی نے دونوں خاندانوں کے درمیان میں “صلح” کروائی اور مقتول کے خاندان کو 35 کروڑ روپے کی رقم ادا کی گئی۔ مقتول خاندان نے عدالت میں بیان جمع کروایا کہ انھوں نے ملزمان کو قصاص فی سبیل اللہ معاف کر دیا ہے جس کے بعد عدالت نے چاروں مجرموں کو رہا کر دیا۔۔مجرم انگلیوں سے فتح “V” کا نشان بناتے ہنستے عدالت سے باہر آئے۔ قصاص کے اسطرح کے استعمال پر چیف جسٹس افتخار چودھری نے برہمی کا اظہار کیا اور حکومت سندھ کو اکتوبر 2013 میں رپوٹ پیش کرنے کو کہا۔

لیکن بس اتنا کافی نہ تھا، کیونکہ قتل کے ان مجرمان کے خلاف دہشتگردی کی دفع بھی عائد تھی جسے کوئی انفرادی طور پر معافی دے کر ختم نہیں کروا سکتا۔

چنانچہ پھر تالپور اور جتوئی گھرانوں نے اپنے سیاسی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے سندھ حکومت کے زریعے استغاثہ کو کمزور کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف عدالت میں دہشتگردی کی دفعہ قائم کرنے کے خلاف رٹ دائر کی گئی جس کے جواب میں سندھ حکومت کی طرف سے جان بوجھ کر انتہائی کمزور بیان داخل کیا گیا، مزید یہ کہ قتل کے وقت شاہ رخ جتوئی کی عمر 18 سال سے کم ہونے کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا ۔

نتیجے کے طور پر 28 نومبر 2017 کو سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس سماعت کے لئے سیشن جج بھیجنے کا حکم دیا تھا جب کہ عدالت نے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات بھی ختم کردی تھیں۔اس کیس کی سماعت میں ملزمان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے قانونی تقاضے پورے کئے بغیر شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں کو سزا سنائی، سزا کے وقت شاہ رخ جتوی کی عمر 18 سال سے کم تھی اور یہ مقدمہ بچوں کے مقدمات میں آتا تھا جب کہ کیس کے تفتیشی افسر نے شاہ رخ جتوئی کا جو پیدائشی سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا اس پر بھی والد کا غلط نام درج تھا، یہ جھگڑا بھی ذاتی نوعیت کا تھا اس لئے اس کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت میں تو بنتا ہی نہیں۔

کراچی کی ضلع جنوبی کی سیشن عدالت نے 19 دسمبر 2017 کو کیس کی ازسر نو پہلی سماعت میں صلح نامہ اور کیس کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔
سماعت کے آغاز پر مقتول شاہ زیب کے والد نے صلح کے حوالے سے حلف نامہ جمع کرایا۔جب کہ انہوں نے ایک اور حلف نامہ جمع کرایا جس میں ملزمان کی ضمانت پر رہائی کے حوالے سے کوئی اعتراض داخل نہیں کیا۔مقتول شاہ زیب کے والد نے عدالت کے روبرو بتایا کہ بیٹے کے قتل کے بعد ملزمان کے اہلخانہ سے صلح ہوگئی تھی، گھر والوں کی مرضی سے ملزمان کے اہلخانہ سے صلح کی اور شاہ زیب کے قاتلوں کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کیا، اس لیے ملزمان کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں۔

چنانچہ 23 دسمبر 2017 کو سیشن عدالت نے شاہ زیب قتل کیس کے مبینہ مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کی ضمانتیں منظور ہونے کے بعد رہائی کے احکامات جاری کردیئے جس کے بعد شاہ رخ جتوئی کو جناح ہسپتال سے رہا کردیا گیا۔

چاروں ملزمان پورے 5 سال بعد رہا ہوکر باہر آئے تو انہوں نے وکٹری کے نشان بنا رکھے تھے جیسے کوئی بہت بڑا فاتح اپنی مقبوضہ سلطنت کی شاہراہوں سے گزرتے ہوئے بناتا ہے۔

یکم فروری 2018 کو سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے کیس میں دہشت گردی کی دفعات بحال کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان شاہ رخ جتوئی، سجاد تالپور، سراج تالپور کو حراست میں لے لیا۔شاہ زیب قتل کیس میں نامزد چوتھا ملزم غلام مرتضی لاشاری جیل میں ہی تھا جو ملزم شاہ رخ جتوئی کا ملازم ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس کو دوبارہ سندھ ہائیکورٹ بھیجتے ہوئے ماتحت عدالت کو حکم دیا کہ دو ماہ میں کیس کا میرٹ پر فیصلہ کرے۔ عدالت عظمیٰ نے کیس کے حتمی فیصلے تک ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا۔

12 فروری 2018 کو سندھ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے حکم پر شاہ ذیب قتل کیس میں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نظر اکبر پر مشتمل خصوصی بینچ تشکیل دے دیا۔

13 مئی 2019 کو شاہ رخ جتوئی سمیت 2 مجرموں کی سزائے موت، عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔تحریری فیصلے میں عدالت نے ملزمان اور مقتول کے ورثا کے درمیان ہونے والا صلح نامہ منظور کرلیا اور ریمارکس دیئے کہ عدالت نے شاہ زیب کے قتل میں ملزم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزا صلح نامے کی بنیاد پر ختم کی۔چونکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دی گئی سزا ناقابل معافی ہے لہذا سزائے موت عمر قید میں تبدیل کی گئی۔جب کہ عدالت عالیہ نے شاہ رخ جتوئی کی عمر کے تعین کے حوالے سے دائر اپیل بھی مسترد کردی۔

اعتزاز احسن کی عدلیہ تحریک کے دوران یہ نظم بہت مشہور ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ،

ریاست ہوگی ماں کے جیسی
ہر شہری سے پیار کرے گی

ریاست ہماری واقعی ماں جیسی ہے، بس شہریوں کو جتوئی، تالپور، شریف، زرداری جیسے خاندانوں سے ہونا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں